مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علاقائی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے روزنامہ رائے الیوم میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکہ کو ڈیزل فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گھٹنے ٹیک کر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا اور رواں ماہ فوری طور پر 3 لاکھ ٹن ڈیزل اور آئندہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل خریدنے کے معاہدے کی کوشش کرنا، امریکہ میں وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل منڈیوں میں قیمتیں کم کرنے کی ایک مایوس کن کوشش اور ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی و سفارتی سطح پر شکست کا واضح اعتراف ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا بڑا جھوٹ
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ٹرمپ کے اس ’’بڑے جھوٹ‘‘ کی بھی ایک بار پھر تردید کرتا ہے، جسے وہ مسلسل دہراتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں ہے اور اس سے تیل کی ترسیل کا سلسلہ اس سطح پر بحال ہو چکا ہے جو ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے سے پہلے تھا۔
اس مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ پیوٹن کے سامنے ٹرمپ کی یہ ’’ذلت آمیز‘‘ پسپائی امریکی قانون سازوں کے لیے ایک بڑا دھچکا اور یورپی اتحادیوں کی پشت میں زہریلا خنجر گھونپنے کے مترادف ہے، جس نے دونوں فریقوں کو شدید حیرت میں ڈال دیا۔ خاص طور پر اس لیے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کانگریس میں بھاری اکثریت سے منظور ہونے والے ایک بل پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر سخت پابندیاں عائد کی جانی تھیں۔
ٹرمپ نے روس پر پابندیاں اس مقصد سے عائد کی تھیں کہ اس ملک پر دباؤ بڑھایا جائے اور اس کے خزانے میں آنے والی آمدنی کم کی جائے۔ یہ اس صورت حال میں کیا گیا کہ روس، سعودی عرب کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک اور قطر کے بعد گیس برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔
ٹرمپ کے دھوکے پر یورپ کا غصہ
عرب مبصر عطوان نے واضح کیا کہ یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، فرانس اور برطانیہ، جو یوکرائن کے صدر زیلنسکی اور ان کی فوج کو مالی و فوجی امداد فراہم کرنے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہیں، اپنے خلاف اس زہریلے خنجر کے وار پر غصہ چھپا نہیں سکے۔ انہوں نے اپنے سرکاری بیانات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مضامین کے ذریعے اس غصے کا اظہار کیا اور ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی اور ریپبلکن پارٹی کی تقریباً یقینی شکست سے بچنے کے لیے یوکرائن کو انتہائی معمولی قیمت پر روس کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔
اگرچہ اس معاہدے سے امریکی منڈیوں میں چند روز کے لیے ڈیزل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، لیکن اس سے عوامی غصہ اور ایوانِ نمائندگان و سینیٹ کے قانون سازوں کی ناراضی ختم نہیں ہوگی، کیونکہ یہ اقدام ایک عارضی درد ختم کرنے والی دوا کی مانند ہے، جو اصل بیماری کا علاج نہیں کرتی۔
ٹرمپ کے اقدام سے یورپ کی حیرانگی
یہ معاہدہ نیٹو اور یورپی دارالحکومتوں کے لیے حیران کن تھا اور اس نے ایک بار پھر ایران کی ثابت قدمی اور کامیابی کی تصدیق کی۔ یہ اقدام ایران کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہونے اور امریکی جارحیت کی حمایت کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی بحری جہاز نہ بھیجنے کے حوالے سے یورپ کے سرکاری اور عوامی مؤقف کی درستی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
یورپ جانتا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ بنیادی طور پر اسرائیل کی جنگ ہے اور ایران ایک بڑی علاقائی طاقت ہے؛ وہ عراق یا افغانستان جیسا ملک نہیں ہے۔
ٹرمپ کی جنگوں کا بنیادی محرک تیل ہے
عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر زور دیا کہ ٹرمپ کی جنگوں کا بنیادی محرک ’’تیل‘‘ ہے، تاکہ وہ کھربوں ڈالر حاصل کر سکیں اور امریکہ کو قرضوں کے بحران سے نکال سکیں، جو اب تک 41 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ٹرمپ کی مہنگی اور ناکام جنگوں کے باعث امریکہ کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عطوان نے کہا کہ ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی، جس کی امریکہ کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے دوستوں کو بھی کھو دے گا، یہ تھی کہ انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ ایران اور مغربی ایشیاء کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے سے زیادہ آسان اور کم خرچ ہوگا۔
ٹرمپ عرب حکمرانوں کو بھی انتہائی معمولی قیمت پر فروخت کر دیں گے
عطوان نے عرب حکومتوں کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں اور نیٹو کو تنہا چھوڑ دیا، یوکرائن اور اس کے عوام کو فروخت کر دیا اور آئندہ انتخابات میں کامیابی، اقتدار میں برقرار رہنے اور تل ابیب میں اپنے صیہونی آقا کی خدمت کے لیے زندگی بچانے کا سہارا حاصل کرنے کی غرض سے عجلت اور ذلت کے ساتھ پیوٹن کی جانب دوڑ لگائی، وہ یقیناً عرب حکمرانوں کو بھی انتہائی معمولی قیمت پر فروخت کر دیں گے۔
امریکہ نے مغربی ایشیاء میں شکست تسلیم کر لی ہے
اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکمران طبقہ، مغربی ایشیاء میں شکست تسلیم کر چکا ہے اور اسے اس حقیقت کا یقین ہو گیا ہے۔ امریکی سلطنت غیر معمولی تیزی سے برطانوی اور فرانسیسی سلطنتوں کے راستے پر گامزن ہے اور اس خطے سے فرار ہو رہی ہے۔
عطوان کے مطابق، عراق، کردستان اور خلیجِ فارس کے علاقے میں امریکی اڈوں کو خالی کرنے کی یہی تشریح کی جا سکتی ہے کہ حالیہ شکستوں اور ایرانی میزائلوں و ڈرون حملوں سے اپنے اڈوں اور میزبان ممالک کی حفاظت کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ ان علاقوں سے اپنے اڈے خالی کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ